بنگلورو،7؍فروری(ایس او نیوز) وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج نے کہاکہ بی بی ایم پی میں جب سے کانگریس اقتدار پر آئی ہے اس نے بی بی ایم پی کی کوئی جائیداد فروخت ہونے نہیں دی، جبکہ اس سے پہلے بی جے پی کے دور اقتدار میں بی بی ایم پی کی جائیدادوں کو رہن رکھ دیا گیا تھا، جنہیں موجودہ حکومت نے بی بی ایم پی کی ملکیت میں بحال کردیا ہے۔ وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن سی ٹی روی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جارج نے کہاکہ ماضی میں کرشنا راجہ مارکیٹ، ملیشورم مارکیٹ، جانسن مارکیٹ، داسپا بلڈنگ ، پبلک یوٹی لیٹی بلڈنگ ، بی بی ایم پی ایسٹ آفس کی عمارت، خلاصی پالیہ مارکیٹ، راجہ جی نگر کامپلکس ، شیواجی نگر کا سلاٹر ہاؤز ، کیمپے گوڈا میوزیم ، مائیو ہال بلڈنگ سمیت گیارہ جائیداد ہڈکو میں رہن رکھی گئی تھیں، اور ان کے عوض 1434.39کروڑ روپیوں کا قرضہ حاصل کرلیاگیاتھا۔ کانگریس حکومت آنے کے بعد 164.16کروڑ روپیوں کا سود ادا کرکے مائیو ہال اور کیمپے گوڈا میوزیم کی ملکیت بحال کرلی گئی ہے، بہت جلد مزید دو جائیدادوں کو بی بی ایم پی کے قبضے میں بحال کرلیا جائے گا۔اس مرحلے میں سی ٹی روی نے کہاکہ بی جے پی نے جائیدادوں کو محض رہن رکھاتھا، اب یہ اطلاع مل رہی ہے کہ کانگریس ان جائیدادوں کو راست طور پر فروخت کرنے پر اتر آئی ہے، اس میں کہاں تک سچائی ہے۔ جارج نے واضح کیا کہ بی بی ایم پی کی کوئی جائیداد فروخت نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی نے جو نیا ماسٹر پلان مرتب کیا ہے اس کے مطابق آنے والے دنوں میں شہر میں چالیس فیٹ تک کی کسی بھی سڑک پر تجارتی سرگرمیاں چلانے پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اس مرحلے میں کانگریس رکن این اے حارث نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ ہوٹلوں ، دکانوں اور دیگر تجارتی مراکز کو باقاعدگی دینے کے سلسلے میں حکومت اکرما سکرما اسکیم کے تحت اپنا موقف واضح کرے۔ جارج نے کہاکہ اکرما سکرما اسکیم پر ہائی کورٹ کی روک لگ چکی ہے، اس مرحلے میں حکومت اپنا کوئی موقف ظاہر نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہاکہ آنے والے دنوں میں باضابطہ ٹریڈ لائسنس دکھانے والے تاجروں اور ہوٹل مالکان کی املاک کو باقاعدگی دینے پر غور کیا جائے گا۔